
آئی آر حرارت کے ذریعہ ویفر ٹولز میں کاربن کو کم کرنا
فی الوقت ہر کوئی “سبز فیکٹریوں” کی بات کر رہا ہے۔ یہ سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں کی تعمیر میں ایک اہم پہلو ہے۔ کاربن کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ریزسٹیو ہیٹرز کے بجائے آئی آر لیمپس کا استعمال کیا جائے۔
ریزسٹیو ہیٹرز کافی ناکارہ ہیں۔ انہیں پورے چیمبر کی دیواروں کو گرم کرنے میں بہت زیادہ توانائی صرف ہوتی ہے، جبکہ ویفر پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ واضح طور پر ایک بربادی ہے۔
آئی آر لیمپس کام کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ یہ الیکٹرومیگنیٹک تابکاری کو براہ راست ویفر کی سطح پر بھیجتے ہیں۔ اس وجہ سے، مطلوبہ درجہ حرارت تک پہنچنے میں وقت کم لگتا ہے۔ جب یہ وقت کم ہو جاتا ہے، تو ٹول کو بجلی کی زیادہ مقدار کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس کے علاوہ، ہیٹ سوک کا مسئلہ بھی ہے۔ جب ہم شارٹ ویو آئی آر لیمپس کا استعمال کرتے ہیں، تو ہیٹ ڈینسٹی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ریپیڈ تھرمل پروسیسنگ کو بغیر کسی مشکل کے انجام دے سکتے ہیں۔
لیکن یہ سب کچھ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ آئی آر لیمپس سے بہت زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اگر سینسرز میں تھوڑی سی بھی غلطی ہو جائے، تو ویفر پر گرم نقاط پیدا ہو جاتے ہیں، جس سے ویفر خراب ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسے پائرومیٹرز کا استعمال ضروری ہے جو مخصوص مواد کی خصوصیات کو سمجھ سکیں۔
اس کے علاوہ، یہ لیمپس ہمیشہ تک کام نہیں کرتے۔ انہیں باقاعدگی سے تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک قسم کا سودا ہی ہے۔
آخر میں، یہ سب “تھرمل انرشیا” پر منحصر ہے۔ جب ہم پوری مشین کو گرم کرنے کے بجائے صرف ویفر کو گرم کرتے ہیں، تو ہم توانائی کا ضیاع روک سکتے ہیں۔ یہ ایک عملی طریقہ ہے جس کے ذریعہ ہم کاربن نیوٹرالٹی کے اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں، بغیر پیداوار میں کمی کے۔